حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر محمّد طاہر القادری نے مینارِ پاکستان کے سبزہ زار میں منعقدہ 43ویں عالمی میلاد کانفرنس سے خصوصی خطاب میں اخلاقِ حسنہ اور سیرتِ نبوی کے جمالیاتی پہلو نرم مزاجی، ملنساری، سہل طبعی اور لوگوں سے قربت و انسیّت کو مؤمن کے لیے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی شخصیت ایسی ہونی چاہیے کہ لوگ اس سے ملنے جلنے میں آسانی محسوس کریں۔ مؤمن وہ ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، مشکلات میں سہارا دے اور اپنے رویے سے کسی کے لیے بوجھ نہ بنے۔ ان چاروں صفات کا بیک وقت انسان کی شخصیّت کا حصّہ بننا ضروری ہے اور ان کا عملی اظہار زندگی کے ہر شعبے میں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ہماری ذات سے دوسروں کو سکون، راحت اور آسانی ملتی ہے یا بوجھ اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ انسانی محبت کی فصل اسی دل کی سرزمین پر اگتی ہے جو نرم، کشادہ اور ہموار ہو۔ حقیقی قربت صرف جسمانی تعلّق کا نام نہیں بلکہ دلوں کی قربت ہے، اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت پوری انسانیّت کے لیے محبّت، شفقت اور خیر خواہی کا عملی نمونہ ہے۔
علامہ طاہر القادری نے کہا کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق رحمان کے بندوں کی صفات میں عاجزی اور نرم روی نمایاں ہیں، جبکہ سیرتِ نبوی میں بھی نرمی، عفو و درگزر اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ آنحضرت نے مسجد میں غلطی کرنے والے اعرابی کی اصلاح فرمائی مگر اس کا دل نہیں توڑا اور شدید اذیّت کے باوجود اپنے مخالفین کے لیے بھی ہدایت اور مغفرت کی دعا فرمائی۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نرمی اور رفق کو پسند فرماتا ہے، اسی لیے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے سرکش شخص کے سامنے بھی نرم گفتگو کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا مقصد مخالف کو شکست دینا نہیں بلکہ اس کا دل جیتنا ہے۔ علماء اور داعیان کو اپنے اسلوبِ دعوت میں محبّت، حکمت اور نرمی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے نوجوان کی تربیت کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم نے ایک نوجوان کی غلط خواہش کو سختی سے رد کرنے کے بجائے حکمت اور محبّت سے اس کے شعور کو بیدار کیا، جس کے نتیجے میں وہ نوجوان ہمیشہ کے لیے سنور گیا۔ یہ نبوی منہجِ تربیّت ہے کہ انسان کی عقل و شعور کو بیدار کرکے اسے صحیح اور غلط کا فرق سمجھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ صرف جلسے، جلوس اور محافل منعقد کرنے کا نام نہیں، بلکہ سیرتِ نبوی کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا اصل مقصد ہے۔ محبّتِ رسول کا حقیقی تقاضا اتباع، اطاعت، حسنِ اخلاق اور کردار کی اصلاح ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کو سیرتِ طیّبہ کے سانچے میں ڈھال کر معاشرے میں محبّت، نرمی، آسانی اور انسانیّت کی خیر خواہی کو فروغ دینا ہوگا۔
اس موقع پر چیئرمین سپریم کونسل منہاجُ القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محیّ الدین قادری، صدر منہاجُ القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محیّ الدین قادری، ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس (WAAG) کے نائب صدر ڈاکٹر وائل محمود السید بخیت، اسلامک ریسرچ اکیڈمی الازہر الشریف کے سیکریٹری جنرل فضيلة الشيخ الأستاذ الدكتور محمد عبد الدايم الجندي، ناظمِ اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، علمائے کرام و مشائخ عظّام، اعلیٰ سطحی وفود، تحریک منہاجُ القرآن و جملہ فورمز کے قائدین، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی دینی و سماجی شخصیات سمیت بزرگوں، خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ